![]() |
|
|||||||
|
Welcome to the PK Forum Community forums. You are currently viewing our boards as a guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, communicate privately with other members (PM), respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely free so please, join our community today! If you have any problems with the registration process or your account login, please contact contact us. |
![]() |
|
|
LinkBack | Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 (permalink) | ||||||||
|
Junior Member
![]()
Credits: -767
![]() |
احادیث کو حجت نہ سمجھنے والوں سے چند سوالات بعض احباب کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن مجمل کلام نہیں بلکہ مفصل کلام ہے۔ اور اس میں جو بھی احکامات دئے گئے ہیں ان کی وضاحت اور تفصیلات بھی قرآن ہی میں بتائی گئی ہیں۔ اس بناء پر یہ احباب احادیث کو حجت نہیں مانتے ۔ بلکہ حدیث کو ماننا قرآن کی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کی نیت سے ان سے اور ان کے توسط سے تمام ان لوگوں سے جو حدیث کو حجت نہیں مانتے، چند سوالات کئے جارہے ہیں۔ شاید کہ کوئی بھولا راستہ پا لے اور ہماری نجات کا باعث بن جائے۔ پہلا سوال: قرآن میں مردہ، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام قرار دیا گیا ہے اور بہیمتہ الانعام حلال کیا گیا ہے۔ بہیمتہ الانعام کی تفسیر قرآن میں ان جانوروں سے کی گئی ہے۔ اونٹنی، اونٹ ، گائے، بیل، بکری، بکرا، بھیڑ اور مینڈھا۔ لغت میں بھی بہیمتہ الانعام کی فہرست میں یہی جانور بتائے گئے ہیں اب سوال یہ ہے کہ ان کے علاوہ دنیا کے بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟ مثلاً کتا، بلی، گیدڑ، بھیڑیا، چیتا، شیر ، تیندوا، بندر ، ریچھ ، ہرن ، چیتل ، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے جانور حلال ہیں یا حرام؟ یا ان میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام؟ آپ جو جواب بھی دیں اس کا ثبوت قرآن سے پیش کریں۔ کیونکہ آپ دعوے دار ہیں کہ ہر مسئلہ قرآن میں موجود ہے۔ اس لئے جانوروں میں سے جس کو بھی حلال مانیں اس کے حلال ہونے کا ثبوت قرآن سے دیں۔ اور اگر آپ قرآن سے نہ دے سکیں (اور یقیناً نہیں دے سکیں گے) تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا ہے اور حدیث کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا قاعدہ حدیث میں بیان کر دیا گیا ہے جس سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا جانور حلال ہے اور کون سا حرام۔ دوسرا سوال: قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز کی حالت میں کھڑے ہونے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز میں پہلے کھڑے ہوں؟ یا پہلے رکوع کریں؟ یا پہلے سجدہ کریں؟ پھر کھڑے ہوں تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں یا لٹکا کر؟ ایک پاؤں پر کھڑے ہوں یا دونوں پر؟ لغت میں رکوع کا معنی ہے جھکنا، سوال یہ ہے کہ آگے جھکیں یا دائیں یا بائیں؟ پھر جھکنے کی مقدار کیا ہو؟ ذرا سا سر نیچا کریں یا کمر کے برابر نیچا کریں یا اس سے بھی زیادہ نیچا کریں؟ پھر رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں ہو؟ گھٹنوں پر ٹیکیں؟ یا دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ کر بازؤں کو ران پر ٹیکیں؟ یا ڈنڈے کی طرح لٹکنے دیں؟ اسی طرح سجدہ کیسے کریں؟ یعنی زمین پر سر کا کون سا حصہ ٹیکیں؟ پیشانی کا ٹھیک درمیانہ حصہ یا دایاں کنارہ یا بایاں کنارہ؟ سجدہ کی حالت میں ہاتھ کہاں رکھیں؟ رانوں میں گھسا لیں؟ یا زمین پر رکھیں؟ اور اگر زمین پر رکھیں تو صرف ہتھیلی زمین پر رکھیں یا پوری کہنی زمین پر رکھیں؟ سجدہ ایک کریں یا دو؟ ان سوالات کا آپ جو بھی جواب دیں اس کا ثبوت صرف قرآن سے دیں۔ اور اگر قرآن سے نہ دے سکیں (اور یقیناً نہیں دے سکتے) تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کےحکم پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ تیسرا سوال: قرآن میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نہ دینے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ جس قسم کے لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کرنی ہے ان کے متعلق بھی بتایا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ کب وصول کی جائے؟ یعنی زکوٰۃ روز روز دی جائے یامہینہ میں ایک مرتبہ یا سال میں ایک مرتبہ یا پانچ یا دس سال میں دی جائے؟ یا عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ دی جائے؟ پھر یہ زکوٰۃ کس حساب سے دی جائے؟ اور کتنی دی جائے؟ یعنی غلہ کتنا ہو تو اس میں زکوٰۃ دی جائے اور کتنے غلہ پر زکوٰۃ دی جائے ؟ سونا چاندی کتنی ہو تو زکوٰۃ دی جائے؟ اور کس حساب سے دی جائے؟ یہ سارے مسئلے قرآن سے ثابت کیجئے۔ اگر آپ قرآن میں یہ مسائل نہ دکھلا سکیں (اور ہرگز نہیں دکھلا سکتے) تو ثابت ہوگا کہ حدیث کو مانے بغیر قرآن کے حکم پر بھی عمل ممکن نہیں۔ کیونکہ ان سارے مسائل کا بیان حدیث ہی میں آیا ہے۔ چوتھا سوال: قرآن میں حکم ہے کہ مسلمان جنگ میں کفار کا جو مال غنیمت حاصل کریں اس کے پانچ حصے کر کے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر الگ نکال دیاجائے جو یتیموں ، مسکینوں اور حاجت مندوں وغیرہ میں بانٹ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چار حصوں کا کیا کریں؟ تمام مجاہدین میں برابر بانٹا جائے یا فرق کیا جائے؟ کیونکہ بعض لوگ اپنا ہتھیار، گھوڑا، تیر کمان، نیزہ، بھالا، زرہ ، خود، سواری کا جانور اور کھانے کا سامان خود لے کر جاتے تھے اور بعض کو اسلامی حکومت کی طرف سے یہ سامان فراہم کئے جاتے تھے۔ اسی طرح بعض لوگ بڑی بہادری اور بے جگری سے لڑتے تھے ، بعض کم زور تھے، کچھ اگلی صف میں رہتے تھے جن پر براہ راست دشمن کا وار ہوتا تھا۔ کچھ پیچھے رہتے تھے جو خطرہ سے دور رہتے تھے۔ اب اگر ان سب کو برابر دیں تو کیوں دیں؟ اور اس کا ثبوت قرآن میں کہاں ہے؟ اور اگر فرق کریں تو کس حساب سے فرق کریں؟ قرآن سے حساب بتائیے؟ اگر کمانڈر کی رائے پر چھوڑیں تو قرآن میں کہاں لکھا ہے۔ اگر قرآن میں ان مسئلوں کی وضاحت موجود نہیں ہے تو کیسے کہا جاتا ہے کہ قرآن میں سارے مسئلے بیان کر دئے گئے ہیں۔ Last edited by Mubeen Ahmed : 10-07-2007 at 06:46 AM. |
||||||||
|
|
|
|
Advertisement
|
|
|
|
#2 (permalink) | ||||||||
|
Junior Member
![]()
Credits: -767
![]() |
پانچواں سوال: قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو دایاں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہاں سے کاٹیں؟ بغل سے، کہنی سے یا کلائی سے یا ان کے بیچ میں کسی جگہ سے؟ آپ جو بھی جواب دیں اس کا ثبوت قرآن سے دیں اور اگر آپ نہ دے سکیں (اور ہرگز نہیں دے سکتے) تو کیسے کہتے ہیں کہ قرآن کے تمام احکامات کی تفصیلات قرآن ہی میں ہیں اور حدیث کی ضرورت نہیں؟ چھٹا سوال: قرآن میں ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کیلئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن کب پکارا جائے؟ کس نماز کے لئے پکارا جائے؟ کن الفاظ کے ساتھ پکارا جائے؟ جس نماز کے لئے پکارا جائے وہ نماز کیسے پڑھی جائے؟ ان ساری باتوں کا ثبوت قرآن سے دیجئے۔ ورنہ تسلیم کیجئے کہ قرآن میں ہر حکم اپنی جزئی تفصیلات کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی پیروی کرنے کاحکم دیا گیا ہے اور جو باتیں ہم نے پوچھی ہیں ان باتوں میں اور اسی طرح زندگی کے بہت سارے مسائل میں تنہا قرآن سے کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ یہ طریقہ صرف حدیث سے معلوم ہو سکتا ہے۔ مندرجہ بالا حقیقت کو دو طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جب تک حدیث کو نہ مانیں خود قرآن پر بھی عمل نہیں کر سکتے۔ اور یہ قرآن کی توہین ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ حدیث پر عمل کرنا درحقیقت قرآن ہی پر عمل کرنا ہے۔ کیونکہ قرآن خود کئی جگہوں پر کہتا ہے کہ پیروی کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ ان دونوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ لیکن کہنے کے انداز کی وجہ سے پہلی بات سے لگتا ہے کہ شاید قرآن کی توہین ہو رہی ہے۔ اور دوسری بات سے لگتا ہے کہ قرآن مکمل کتاب ہی ہے لیکن قوانین و احکامات مجمل انداز میں دئے گئے ہیں اور تفصیلات کیلئے سنت رسول کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالٰی کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی ، ایک نیا نظام تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنا دینے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور آپ ایک عام مسلمان رہ جاتے تھے۔ جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانون سند و حجت نہیں رکھتا؟ دوسرے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ڈاکیا نہیں تھے کہ قرآن پہنچا دینے کے بعد ان کا کام ختم۔ اب سب لوگ خود ہی سمجھتے رہیں اور اپنی اپنی من مرضی کے مطلب نکال کر قرآن کو پڑھیں اور اس پر عمل شروع کردیں۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں قرآن کی تعلیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے، اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہواہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرز فکر ، اخلاق اور اقدار، عبادات اور معاملات، نظریہ حیات اور طریق حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو ان کو تمام روئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے، یہی امر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔ امید ہے کہ ان معروضات کو تنقید نہیں سمجھا جائے گااور اپنی اپنی آخرت اور جواب دہی کی فکر کرتے ہوئے اصلاح کی نیت سے بحث کی جائے گی۔ والسلام محمد شاکر |
||||||||
|
|
|
|
|
#3 (permalink) | ||||||||
|
PK Addict
![]()
Location: Rawalpindi
Credits: 34,387
![]() |
I agree with you that some of the explanations are not provided in Quran, and Sahee Ahadees need to be consulted n conjunction with Quran. Issi liay Pehlay har maslay key hall key liay Quran mein talaash kernay key liay kaha gaya hai, aur wahan wazeh na ho to Ahadees, aur phir Ulema ka Ijtehaad aakhri hal hai.
Lekin iss order to toraa nahi jaa sakta, for e.g. kisse existing masla jiss ka tafseelan hal mojood hai Quran aur sunnah mein to uss per ijtehaad kerna sahee nahi hai.
__________________
Intel E6300 @ 2.45GHz on SK || Asus P5B Deluxe || Corsair 2x512MB 667Mhz DDR2 RAM || MSI NVIDIA 7600GS || Viewsonic VA1912w || WD 1.1 TB HDD || Sony DVD RW Dual Layer || Vantech Nexus NXP-301 Fan and Light controller ![]() Dell Latitude D520 Laptop |
||||||||
|
|
|
|
|
#4 (permalink) | ||||||||
|
PK Addict
![]()
Location: Islamabad
Credits: 109,313
![]() ![]() |
Rightly said Waqas.
__________________
w00t!!! ~~~~~~~~~~~~~~~~~
I don't drive fast. I fly low ~~~~~~~~~~~~~~~~~ { Blog } { Eid Mubarak! } { Namecheap coupon codes for October 2008 } { Linux Compromised With 'root' Password Recovery? } Geo Musharraf! |
||||||||
|
|
|
|
|
#5 (permalink) | |||||||||
|
Junior Member
![]()
Credits: -767
![]() |
Quote:
Brother, With due respect, I would like to mention here that after going through Quran and Sahee wa Hasan Ahadees, If we cant find the solution, we should observe Ijma'a before taking Ijtihaad of a Mujtahid. Hope you will agree with this point. Albatta main ap say ittifaq karta hoon k Ijtihad wahan par karna chahiay jahan Quran o Hadees ka koi wazeh hukm mojood na ho (aur Ijma'a bhee na hoa ho), yani koi naya masla ho. Laiken agar kisi maslay main Ikhtilaaf hay aur wo masla koi naya masla bhee nahe to phir Sirf Allah aur Rasool Sallallaho Alaihe Wsaallam ki taraf lotaya jana chahiay, Jaisa k Quran ka hukm hay. (Sura Nisaa Ayat 59) |
|||||||||
|
|
|
| Sponsored links | |
|
Advertisement
|
|
|
|
#6 (permalink) | ||||||||
|
PK Addict
![]()
Location: Rawalpindi
Credits: 34,387
![]() |
Agreed. I wasnt clear when i mentioned Ijtehad, if an Ijtehad already took place for a problem then its conculsion is used.
__________________
Intel E6300 @ 2.45GHz on SK || Asus P5B Deluxe || Corsair 2x512MB 667Mhz DDR2 RAM || MSI NVIDIA 7600GS || Viewsonic VA1912w || WD 1.1 TB HDD || Sony DVD RW Dual Layer || Vantech Nexus NXP-301 Fan and Light controller ![]() Dell Latitude D520 Laptop |
||||||||
|
|
|