![]() |
|
|||||||
|
Welcome to the PK Forum Community forums. You are currently viewing our boards as a guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, communicate privately with other members (PM), respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely free so please, join our community today! If you have any problems with the registration process or your account login, please contact contact us. |
![]() |
|
|
LinkBack | Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 (permalink) | ||||||||
|
Junior Member
Credits: -1,328
![]() |
{اصطلاحات حدیث}
چند ضروری اصطلاحات حدیث {حدیث} ایسا قول، فغل اور تقریر جس کی نسبت رسول اللہ ۖ کی طرف کی گئی ہو- سنت کی بھی یہی تعریف ہے- یاد رہے کہ تقریر سے مراد آپ ۖ کی طرف سے کسی کام کی اجازت ہے- {خبر} خبر کے متعلق تین اقوال ہیں۔ 1/ خبر حدیث کا ہی دوسرا نام ہے۔ 2/ حدیث وہ ہے جو نبی پاک ۖ کی طرف منسوب ہو اور خبر وہ ہے جو کسی اور سے منسوب ہو۔ 3/ خبر حدیث سے عام ہے یعنی اس روایت کوبھی کہتے ہیں جو نبی ۖ سے منقول ہو اور اس کو بھی کہتے ہیں جو کسی اور سے منقول ہو- {آثار} ایسے اقوال و افعال جو صحابہ کرام اور تابعین کی طرف منقول ہوں- {متواتر} وہ حدیث جسے بیان کرنے والے راویوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر جمع ہوجانا عقلا محال ہو- {آحاد} خبر واحد کی جمع- اس سے مرد ایسی حدیث ہے جس کے راویوں کی تعداد متواتر حدیث کے راویوں سے کم ہو- {مرفوع} جس حدیث کو نبی پاک ۖ کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- {موقوف} جس حدیث کو صحابی کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- {مقطوع} جس حدیث کو تابعی یا اس سے کم درجے کے کسی شخص کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- {صحیح} جس حدیث کی سند متصل ہو اور اس کے تمام راوی ثقہ' دیانتدار اور قوت حافظہ کے مالک ہوں- نیز اس حدیث میں شذوذ اور کوئی خرابی بھی نہ ہو- {حسن} جس حدیث کے راوی حافظے کے اعتبار سے صحیح حدیث کے راویوں سے کم درجے کے ہوں- {ضعیف} ایسی حدیث جس میں نہ تو صحیح حدیث کی صفات پئی جائيں اور نہ ہی حسن حدیث کی- { موضوع} ضعیف حدیث کی وہ قسم جس میں کسی من گھڑت خبر کو رسل اللہ ۖ کی طرف منسوب کیا گیا ہو- { شاذ} ضعیف حدیث کی وہ قسم جس میں ایک ثقہ راوی نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کی ہو- {مرسل} ضعیق حدیث کی وہ قسم جس میں کوئی تابعی صحابی کے واسطے کے بغیر رسول اللہ ۖ سے روایت کرے- {معلق} ضعیف حدیث حدیث کی وہ قسم جس میں ابتدائے سند سے ایک یا سارے راوی ساقط ہوں- {معضل} ضعیق حدیث کی وہ قسم جس کی سند کے درمیان سے اکھٹے دو یا دو سے زیادہ راوی ساقط ہوں- {منقطع} ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کی سند کسی بھی وجہ سے منقطع ہو یعنی متصل ہو- {متروک} ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کے کسی راوی پر جھوٹ کی تہمت ہو- {منکر} ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کا کوئی راوی فاسق، بدعتی، بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا یا بہت زیادہ غفلت برتنے والا ہو- { علت} علم حدیث میں علت سے مراد ایسا خفیہ سبب ہے جو حدیث کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہو اور اسے صرف فن حدیث کے ماہر علماء ہی سمجھتے ہوں- {صحیحین} صحیح احادیث کی دو کتابیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم- { صحاح ستہ} معروف حدیث کی چھ کتب یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ- {جامع} حدیث کی وہ کتاب جس میں مکمل اسلامی معلومات مثلا عقائد، عبادات، معاملات، تفسیر، سیرت، مناقب، فتن، اور روز محشر کے احوال وغیرہ سب کچھ جمع کردیا ہو- {اطراف} وہ کتاب جس میں ہر حدیث کا ایسا حصہ لکھا گیا ہو جو باقی حدیث پر دلالت کرتا ہو مثلا تحفۃ الاشراف از امام مزی وغیرہ- { اجزاء} اجزاء جز کی جمع ہے- اور جز اس چھوٹی کتاب کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص موضوع سے متعلق بالاستیعاب احادیث جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہو مثلا جزء رفع الیدین از امام بخاری وغیرہ- { اربعین} حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی بھی موضوع سے متعلقہ چالیس احادیث ہوں- {سنن} حدیث کی وہ کتب جن میں صرف احکام کی احادیث جمع کی گئی ہوں مثلا سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور سنن ابی داؤد وغیرہ- { مسند} حدیث کی وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی احادیث کو الگ الگ جمع کیا گیا ہو مثلا مسند شافعی یا مسند احمد وغیرہ- { مستدرک} ایسی کتاب جس میں کسی محدث کی شرائط کے مطابق ان احادیث کو جمع کیا گیا ہو جنہیں اس محدث نے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا مثلا مستدرک حاکم وغیرہ- {مستخرج} ایسی کتاب جس میں مصنف نے کسی دوسری کتاب کی احادیث کو اپنی سند سے روایت کیا ہو مثلا مستخرج ابو نعیم الاصبہانی وغیرہ- { معجم} ایسی کتاب جس میں مصنف نے اپنے استاذہ کے ناموں کی ترتیب سے احادیث جمع کی ہوں مثلا معجم کبیر از طبرانی وغیرہ- اوپر ان احادیث کی اصطلاحات کو مد نظر میں رکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کس طرح آج کل کے لوگ تھوڑی تھوڑی بات پر یہ کہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث ہے اور یہ نبی پاک ۖ کا فرمان ہے اور جب ان سے پوچھتے ہیں کہ اس حدیث کی سند بھی تو بتاؤ تو حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم نے ان سے کیا پوچھ لیا یا اتنا ہی پوچھ لیتے ہیں کہ چلو یہ تو بتاؤ کہ یہ حدیث احادیث کی کون سی کتاب سے دریافت کی ہے تو پریشان ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہوئے کہتے ہیں" کہ جی ہمیں تو اتنا علم نہیں کہ یہ حدیث کہاں سے آئی مگر ہے یہ حدیث اور یہ چيز ہم ادھر ادھر سے سنتے رہتے ہیں یا فلان مسجد کے مولوی نے سنائی تھی"۔ اللہ اکبر ان لوگوں کی عقلوں پر پردے پڑ گئے ہیں کہ ایک صحیح حدیث ہم تک اتنے پیچیدہ مراحل سے گھر کر آتی ہےاور یہ لوگ بغیر تحقیق کے آگے بیان کردیتے ہیں اور ان کو کچھ اللہ کا خوف نہیں ۔۔۔اسی وجہ سے ہر بندے نے اپنے مطلب کا دین گھڑ لیا ہے اور اسی پر کاربند ہے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو قرآن اور صحیح احادیث پہ غور و فکر کرکے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین واسلام علیکم اقتباس: 100 مشھور ضعیف احادیث از شیخ احسان بن محمد العتیبی حفظ اللہ (تلمیذ البانی رح) |
||||||||
|
|
|
|
Advertisement
|
Sponsored links
|