PK Forum Community

[ Home ]   [ PK Mail ]   [ PK Auction ]   [ Photo Gallery ]   [ Your Social Network ]   [ Your Group ]   [ Online Games ]   [ Advertise on PK Forum ]
Go Back   PK Forum Community > General Discussions > Islamic Forum
Register FAQ Photo Gallery Members List Calendar Online Games Profiles


Welcome to the PK Forum Community forums.

You are currently viewing our boards as a guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, communicate privately with other members (PM), respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely free so please, join our community today!

If you have any problems with the registration process or your account login, please contact contact us.
Reply
 
LinkBack Thread Tools Display Modes
Old 26-06-2008, 08:54 PM   #1 (permalink)
Junior Member
 

Activity Longevity
0/20 4/20
Today Posts
0/5 ssssssss2
Credits: -533
Ja-ul-Haq is an unknown quantity at this point
الکتاب مفصلاً = قرآن + حدیث

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الکتاب مفصلاً = قرآن + حدیث



صحیح احادیث کا انکار کرنے والے ، ان کو دین میں حجت نہ سمجھنے والے اور ان کو محض ظن ، گمان و تخیل سے تعبیر کرنے والے کبھی بھی کھلے منہ اس بات کا اقرار نہیں کریں گے کہ وہ "منکرِ احادیث" ہیں۔ بلکہ دو چار معروف احادیث پیش فرما کر اپنی مظلومیت ہی جتائیں گے کہ ان پر خواہ مخواہ حدیث دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ احادیث کا کھل کر انکار اس لیے نہیں کیا جاتا کیونکہ انہیں خوب پتا ہوتا ہے کہ ہر عام مسلمان یہ بات سن کر فوراً انہیں اور ان کے "زریں خیالات" کو ردّ کر دے گا۔
لہذا وہی حربہ آزمایا جاتا ہے جو فتنۂ انکارِ حدیث کی خاصیت رہا ہے۔
اور وہ خاصیت یہ ہے کہ : قرآن کو اس قدر زور و شور کے ساتھ پیش کیا جائے اور صرف قرآن ہی کو یوں "محفوظ" بتایا جائے کہ اس کے مقابلے میں حدیثِ رسول (ص) شک و شبہ کا شکار ہو کر رہ جائے۔

اور اس حقیقت کی خبر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پہلے دے چکے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا‫:
لايوشك رجلٌ شبعان على أريكته يقول: عليكم بهذا القرآن؛ فما وجدتم فيه من حلالٍ فأحلوه وما وجدتم فيه من حرامٍ فحرموه
خبردار! عنقریب ایک شکم سیر آدمی اپنے مزین و آراستہ پلنگ (یا صوفہ) پر بیٹھ کر کہے گا : تم پر اس قرآن کا (اتباع) فرض ہے۔ اس میں جو حلال ہے ، تم اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام جانو۔
ابو داؤد ، كتاب السنة ، باب : في لزوم السنة ، حدیث : 4606

اور آپ (ص) نے مزید فرمایا : جب اس کے سامنے میرا حکم از قسم امر و نہی پیش ہو تو وہ کہے گا‫:
لا ندري، ما وجدنا في كتاب اللّه اتبعناه
میں اسے نہیں جانتا۔ ہم تو جو کچھ کتاب اللہ میں پائیں گے ، اسی پر عمل کریں گے۔
ابو داؤد ، كتاب السنة ، باب : في لزوم السنة ، حدیث : 4607

بالکل یہی مثال یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک پیش کیا گیا
‫(قرآن مجید نے تمام مردار حرام قرار دئے ہیں جبکہ رسول اللہ (ص) نے مری ہوئی مچھلی حلال قرار دی ہے)۔
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار (مچھلی وغیرہ) حلال ہے۔
صحیح ابن خزیمہ ، جلد اول ، باب من ماء البحر اذ ماؤه طهور ميتته ، حدیث نمبر:112

تو اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا‫:
آپ لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرمان دیا جس میں آقائے نامدار صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک استثناء فرما دیا۔۔اور یوں آپ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم کی بات میں فرق ہونے کا تاثر دیا۔۔

اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ قرآن کی حرام کردہ چیز کے علاوہ اللہ نے کوئی چیز حرام نہیں کی تو ایسا شخص اس فرمانِ نبی (ص) کو اچھی طرح سن لے‫:
وإن ما حرم رسول الله كما حرم الله
بلاشبہ جو رسول اللہ نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ کا حرام کردہ ہے۔
مِشْكَاةُ الْمَصَابِيحِ ، باب الاعتصام بالكتاب والسنة ، الفصل الثاني

قرآن جن اصحاب کرام (رض) کے سامنے نازل ہوا تھا ، خود ان اصحاب کا احادیث کے متعلق کیا رویہ تھا؟
صحابہ کرام (رض) تو گویا احادیث کو "کتاب اللہ" ہی سمجھتے تھے ، انہوں نے ہر حدیث کو قرآن کی طرح تسلیم کیا اور ببانگ دہل کہا کہ : ہم احکامِ حدیث کو "قرآنی حکم" کی تعمیل میں تسلیم کرتے ہیں (یعنی حدیث کے ماننے کا حکم خود قرآن میں موجود ہے)۔
صحیح بخاری کے اس واقعے کو یاد کیا جائے ۔۔۔ جب ایک عورت نے عظیم صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا کہ : مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ جسم کو گوندوانے والی ، بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کو باریک کروانے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔
جلیل القدر صحابی نے جواب دیا‫:
وما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومن هو في كتاب الله
میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور وہ چیز کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔
اس عورت نے پھر کہا کہ : میں نے سارا قرآن پڑھا ہے ، اس میں تو یہ بات مجھے نہیں ملی۔
تو آپ نے فرمایا‫:
لئن كنت قرأتيه لقد وجدتيه، أما قرأت: {وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا}۔
اگر تو قرآن کو سمجھ کر پڑھتی تو یہ بات ضرور قرآن میں پا لیتی۔ کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی؟
جو کچھ تمہیں رسول دیں ، اسے لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں ، اس سے رک جاؤ۔
اس عورت نے کہا : ہاں ، یہ تو ضرور پڑھا ہے۔
تب آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں‫:
یقیناً رسول اللہ نے ان افعال کی ممانعت فرمائی ہے۔
صحیح بخاری ، کتاب اللباس ، باب: {وما آتاكم الرسول فخذوه}۔

صرف صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) یا اہلِ عرب نے ہی ’کتاب اللہ‘ سے پوری شریعت (قرآن اور حدیث) مراد نہیں لی تھی بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی ’کتاب اللہ‘ سے مراد ’قرآن اور سنت‘ دونوں ہیں ‫‫!
اس کی دلیل بھی صحیح بخاری کی حدیث کے ذریعے پیش خدمت ہے ۔ یہ حدیث ’واقعہ عسیف ( مزدور کا واقعہ)‘ پر مبنی ہے جو صحیح بخاری کے ساتھ صحاح ستہ کی دیگر کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
جب رسول اللہ (ص) کے نزدیک ایک غیرشادی شدہ مرد اور ایک شادی شدہ عورت کے زنا کا واقعہ فیصلے کے لیے پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‫:
اللہ کی قسم ! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔۔۔ تیرے بیٹے (مرد) کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور ۔۔۔ عورت اگر زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کر دو ۔
صحیح بخاری ، کتاب المحاربین ، باب الاعتراف بالزنا ، حدیث : 6916

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ‫:
رسول اللہ (ص) اِس حدیث میں اللہ کی قسم اٹھا کر بیان دے رہے ہیں کہ رجم کی سزا کتاب اللہ کے مطابق ہے حالانکہ یہ سزا قرآن کریم میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے ۔
لہذا خود اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانِ مبارک سے ثابت ہو گیا کہ ’کتاب اللہ‘ سے مراد صرف ’قرآن کریم‘ نہیں ہے بلکہ ابو داؤد کی صحیح حدیث کے مطابق‫:
‫’‬کتاب اللہ‘ سے مراد ’ قرآن و سنت ‘ دونوں ہیں ‫!
۔۔۔۔۔۔۔

صرف قرآن قرآن کا دعویٰ کرنے والوں کو اتنی سیدھی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ قرآن اور حدیث دونوں ہی وحی ہیں ، دونوں شانِ نبوت سے ادا ہوتے ہیں۔ ایک ہی نبی اور ملتے جلتے الفاظ۔ ان میں سے بعض کو ہم قرآن قرار دیتے ہیں اور بعض کو حدیثِ نبوی۔ کیونکہ ہمارے نبی نے بتایا ہے کہ فلاں الفاظ بطور قرآن ہیں اور فلاں بطورِ حدیث۔
اس سے ایک بات نہایت واضح ہو کر اور نکھر کر سامنے آتی ہے ۔۔۔۔
فرمانِ نبوی نے ہی بتلایا کہ یہ قرآن ہے۔
اگر نبی کے فرمان پر یقین نہیں ہے تو پھر بتائیے کہ قرآن بھی کس کے کہنے سے قرآن بنتا ہے؟
ہم سے نہ اللہ نے یہ فرمایا اور نہ جبریل (ع) امین نے کہا کہ یہ قرآن ہے۔

کس قدر احسان ناشناس اور محسن کش ہیں یہ لوگ جو آج قرآن کی آڑ لے کر حدیث کے انکار پر تلے ہوئے ہیں جبکہ احادیث نے ہی انہیں قرآن سے روشناس کیا ہے۔
منکرینِ حدیث آخر کس منہ سے قرآن کو "کتاب اللہ" کہتے ہیں ؟؟؟
قرآن تو صرف انہی بانصیب کے لیے "کتاب اللہ" ہے جن کا حدیثِ رسول پر ایمان ہے اور جن کے لیے حدیث حجت ہے ‫!!
Ja-ul-Haq is offline   Reply With Quote
Advertisement
 
Advertisement
Sponsored links

Old 28-06-2008, 05:57 PM   #2 (permalink)
Member
 
lynx17's Avatar
 

Activity Longevity
1/20 16/20
Today Posts
0/5 sssssss72
Location: Karachi
Credits: -2
lynx17 is on a distinguished road
hmmmmmmmm.. nice info bro... i hope those who deny Qaul-Rasool (S.A.W.W),after reading this,may come to the right path.

a long time ago i also posted one of the so called sect who deny Ahadees but present Quran instead.

For all those who thinks that Quran is sufficient for the meaning of Kitab Allah,kindly give me the answer of this simple question.That in Quran we all know there is an order to do 'Ruku' and 'Sujood' infront of our Lord but it is'nt present in Quran that how to do ?? in which manner ?? so we can get the answer of this question from the Ahadees and from the life of Hazarat Muhammad(SAW).He told us how to perform those actions while we pray.
lynx17 is offline   Reply With Quote
Sponsored links
Advertisement
 
Advertisement
Reply



Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

vB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
! جیو ٹی وی ؟ کڑوا سچ Asad Current Affairs 8 26-06-2008 10:57 AM
ساٹھ کھرب ڈالر لٹنے کا خطرہ Asad Current Affairs 7 26-02-2008 07:32 PM
احادیث نہ ماننے والے احباب سے چند سوالات Muslim Islamic Forum 15 05-09-2007 02:17 PM
Knowledge of Unseen -- علم غیب کی حقیقت Muslim Islamic Forum 7 24-07-2007 09:19 PM
Love Hadees -- حدیث سے محبت Muslim Islamic Forum 33 23-07-2007 09:10 AM


All times are GMT +5. The time now is 01:15 PM.



Logo designed by RovingCalypso

Powered by vBulletin® Version 3.6.8
Copyright ©2000 - 2008, Jelsoft Enterprises Ltd.
vBCredits v1.4 Copyright ©2007, PixelFX Studios
Copyright 1999 - 2008 PK forum. All Rights ReservedAd Management by RedTyger

Inactive Reminders By Mished.co.uk